قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری دیدی۔



قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری دیدی۔

خدارا اپنی سیاسی وابستیوں سے بالا تر ہوکر حضرت محمدﷺ کا امتی ہوکر ۔ختم نبوت پر ایمان رکھنے والا مسلمان ہو کر سوچیں ۔ یہ سیاسی پسند ناپسند سب دنیا تک محدور ہے مرنے کے بعد حضرت محمد ﷺ کو اور ﷲﷻ کو کیا منہ دکھائوگے؟ دنیا کا نہیں آخرت کا سوچیں۔ قبر میں آپ کو آپکا پسندیدہ سیاسی لیڈر نہیں بچانے آئیگا

آج قادیانیوں کے حوالہ سے ایک بڑا قدم لیا گیا 
قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی منظوری دیدی۔

تصویر کا پہلا رخ یہ ہے کہ قادیانی مرتد ہیں ۔ جو شخص مسلمان ہو اور وہ پھر اسلام سے خارج ہوجائے اسے مرتد کہتے ہیں اور شریعت کی رو سے مرتد کی بہت سخت سزا ہے ۔ یہ کافروں سے بھی بد تر ہوتے ہیں ۔آپ کافروں کیساتھ ایک حد میں رہ کر میل جول تعلق رکھ سکتے ہیں لیکن مرتد کے ساتھ آپ کسی بھی قسم کا تعلق ۔میل جول نہیں رکھ سکتے۔ جو شخص اسلام میں ہو اور اسلام سے پھر جائے تو وہ انتہائی سخت سزا مستحق ہے۔ قادیانی ملعون مرزا غلام احمد قادیانی کو نعوذباللہ نبی مانتے ہیں۔ اسلیئے وہ مرتد ہوجاتے ہیں دائرہ اسلام سے باہر۔ کیونکہ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور انکے بعد کوئی نبی نہیں آئیگا اور مسلمان ہونے کیلیئے ختم نبوت پر ایمان ضروری ہے۔ اسلام کی تاریخ میں جب جب کسی بھی ملعون نے جھوٹی نبوت کا دعوی کیا اسے عبرت ناک سزا دی گئی اور جہنم واصل کیا گیا ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی گئی اور صحابہ کرام ؓ نے ایسے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا ۔جہاد کیا ۔مسلمہ کذاب کو قتل کرنے کیلیئے باقاعدہ جہاد کیا گیا اور کئی صحابہ کرام ؓ شہید بھی ہوئے ۔ اسی قادیانی فتنہ کو ختم کرنے کیلیئے ذوالفقار علی بھٹو نے سب مسالک فرقوں کے علماء کرام کیساتھ مل کر قادیانیوں کو کافر اور غیر مسلم ڈکلیئر کیا اور ان پر مسلمان کی طرح مساجد بنانے۔ آزان دینے اور اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ پر پابندی لگادی ۔ تاکہ قادیانی  محدود ہو اور یہ خود کو مسلمان ظاہر کر کے کم علم مسلمانوں کو دین سے نہ پھیر دے۔ بھٹو کا یہ کارنامہ بہت بڑا اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور شائد اسی لیئے بھٹو کو پھانسی بھی چڑھنا پڑھی ۔ کیونکہ یہ مرتد ہیں اسلیئے انکے ساتھ کسی بھی قسم کی ہمدردی ۔ میل جول نہیں رکھا جاسکتا۔ مرتد اور کافر میں بہت بڑا فرق ہے ۔ مرتد سے آپ سیدھا سیدھا قطع تعلق کر لیتے ہو اور یہ ہی ذوالفقار علی بھٹو نے کیا انہیں معاشرہ سے باہر نکال دیا ۔

اب تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرلیا ۔جسے ہمارا پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ونگ بہت بڑا کارنامہ کہہ رہا ہے عمران خان کا اور کہہ رہے ہیں کہ اسطرح قادیانی 
سرٹیفائید غیر مسلم ہوگئے ۔ 

تو میرے ان ساتھیوں کو جواب ہے کہ قادیانی 1973 کے آئین پاکستان کے مطابق غیر مسلم ہیں اور
 اسلام کے مطابق بھی غیر مسلم ہی ہیں ۔ تو انکو غیر مسلم کہنے کیلئے کسی بھی سر ٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ۔جو شخص حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا وہ غیر مسلم ہی ہے۔ اور پاکستانیوں کیلیئے جو چیز آئین میں لکھی ہے اسکے بعد بھی کسی سرٹیفیکیٹ کی ضرورت بنتی ہے کیا؟ دوسرا جب قادیانی اقلیتی کمیشن میں شامل ہوجائیں گے تو انکو وہ سارے حقوق دینا پڑینگے جو اقلیت کو دیئے جاتے ہیں جیسے یہ اپنی عبادت گاہیں بھی بناسکتے ہیں  کھلے عام اپنی تبلیغ ۔عبادت کرسکتے ہیں ۔اقلیت کی بنیاد پر اسمبلی کا حصہ بن سکتے ہیں ۔ ایک طرح سے اقلیتی کمیشن میں شامل ہونا قادیانیوں کے مفاد میں ہے کیونکہ آئین کی رو سے یہ پہلے ہی غیر مسلم مرتد ہیں ۔ تو اقلیتی کمیشن میں شامل کرکے آپ انکو غیر مسلم ہونے کا سرٹیفیکیٹ نہیں دے رہے بلکہ آپ انکے لیئے معاشرہ میں داخل ہونے کا دروازہ کھول رہے ہو۔ 1973 کا آئین جو قادیانیوں پر پابندی لگاتا ہے آپ کو وہ ساری پابندیاں ہٹانا پڑینگی۔ بلکہ اقلیت ہونے کی وجہ سے آپ کو انکو حقوق اور حقوق کا تحفظ بھی کرنا پڑیگا۔ مرتد کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق میل جول نہیں رکھ سکتے ان پر رحم نہیں کرسکتے لیکن اب آپ کو اقلیت ہونے کی وجہ تعلق بھی رکھنا پڑیگا بلکہ انکا مفادات کا تحفظ بھی کرنا پڑیگا۔

یہ معاملہ آپکی سیاسی پسند یا نا پسند کا نہیں ۔
یہ معاملہ آپکی زاتی پسند کا نہیں۔ 
یہ معاملہ ختم نبوت کا معاملہ ہے۔ 
یہ آپکے ایمان کا معاملہ ہے۔ 
یہ اسلام کا معاملہ ہے۔ 
زرا سوچیں کون لوگ ہیں جو مستقل پچھلے تین چار سالوں سے کبھی ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کر دیتے ہیں ۔ کبھی الیکشن کے فارم سے ختم نبوت پر ایمان کی شق نکلوادیتے ہیں ۔ کبھی حج کے فارم سے ختم نبوت پر ایمان کی شق ہٹادی جاتی ہے۔ یہ کونسی لابی ہے جو مستقل قادیانییوں کی حمایت میں سرگرم ہے اور وقتوً فوقتوً قادیانیوں کو پاکستانی سیاست ۔ معاملات میں شامل کرنے پر تلی ہے۔ 
جب آپکے پسندیدہ لیڈران کو کچھ کہا جائے آپ کے جسم میں آگ لگ جاتی ہے ۔جب آپ کی پسند کے علماء مولانا کو کچھ کہا جائے آپکا خون کھول جاتا ہے ۔ مگر یہ کیسا ایمان ہے آپکا ۔کیسے مسلمان ہیں آپ کے آپکے نبی کی حرمت پر انگلی اٹھ جائے آپ کا خون نہیں کھولتا۔ ختم نبوت پر وار کرنے والوں کی مدد کی جائے آپ چپ رہتے ہو۔ آپ کے منہ سے مذمت کے دو لفظ تک نہیں نکلتے ۔سیاسی لیڈران کے لیئے دن رات لڑنے والے اس معاملہ پر آکر چپ ہوجاتے ہیں ۔
سانپ سونگھ جاتا ہے۔
ﷲﷻ سب مسلمانوں کو نیک ہدایت دیں۔ 
قادیانی مرتدو کافر ہے اور رہے گا 
یہ آئین پاکستان بھی کہتا ہے 
اور اسلام بھی کہتا ہے۔


Comments